جرائم

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا: شاہد خاقان عباسی کی دوبارہ گرفتاری۔۔۔ (ن) لیگ کو اب تک کا سب سے بڑا سرپرائز دے دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف اور میرے درمیان کوئی تلخی نہیں ہوئی۔واٹس ایپ گروپ چھوڑنا خواجہ آصف کا اپنا فیصلہ ہے۔اگر ہماری کوئی ناراضی ہے تو یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ہو سکتا ہے کہ مجھ پر آنے والوں دنوں میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کا کیس ڈالا جائے۔انہوں

نے مزید بتایا کہ جیل میں سزائے موت کے سیل میں رکھا گیا تھا۔چار مہینے اس سیل میں تنہائی کاٹنا مشکل نہیں ہوتا تھا۔جیل جانے میرے لیے بڑی بات نہیں پہلے بھی دو سال جیل کاٹ چکا ہوں۔نیب کے مطابق مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا بلکہ اختیارات کا غلط استعمال کا الزام ہے۔نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھی تو کہتے ہیں کہ اوپر سے حکم آیا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم عمران خان قبول کرتے ہیں کہ میں لوگوں کو گرفتار کرتا ہوں،انہوں نے امریکا میں پانچ ہزار پاکستانیوں کے سامنے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کہتا تھا مجھے گرفتار کر لو میں نے کر لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چئیرمین نیب کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئیے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیئرمین نیب کو ٹی وی پر پوچھ گچھ کرنے کا چیلنج کردیا، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب ٹی وی پر آجائیں، مجھ سے کرپشن بارے سوال کرلیں، نیب چیئرمین کہہ دیں کہ میری کبھی وزیراعظم سے گفتگو نہیں ہوئی۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے جن لوگوں نے مجھے گرفتار کیا ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اوپر سے حکم آیاہے، چیئرمین نیب کو میں نے نہیں لگایا، بلکہ پیپلزپارٹی نے جسٹس جاوید اقبال کا نام دیا تھا میں نے ان کو نامزد کردیا، میری جگہ کوئی بھی وزیراعظم ہوتا اس نے یہی کرنا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ کے لیے اپنے دور حکومت میں نیب کو ختم کرنا ممکن نہیں تھا۔ ن لیگ کے پاس دونوں ایوانوں میں اکثریت نہیں تھی۔ ہمیں بڑا واضح پیغام دیا تھا کہ نیب قانون کو چھیڑیں گے تو عدلیہ اسٹرائیک ڈاؤن کر دے گی۔

Show More

Related Articles

33 Comments

  1. Hiya, I’m really glad I’ve found this info. Nowadays bloggers publish just about gossips and net and this is really annoying. A good blog with exciting content, that’s what I need. Thanks for keeping this website, I will be visiting it. Do you do newsletters? Cant find it.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close