کالم

خان جی : بیورو کریسی کا ہاتھی انسان کو ایسے زمین پر پٹختا ہے کہ پھر کچھ پلے باقی نہیں بچتا ، ان سے نمٹنے کا گر میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔ اوریا مقبول جان نے شاندار تجاویز پیش کردیں

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی سیاست و معاشرت کا یہ ہاتھی بیورو کریسی ہے۔ پاکستان کے تمام وزرائے اعظم‘صدور اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر دراصل ایوان کرائیلو کے ’’متجسس آدمی‘‘کی طرح ہیں جو اس ملک کی ہر خرابی کو دور کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے وہ عجائب گھر کی چھوٹی سے چھوٹی چیز

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر بھی غور کرتا ہے لیکن ’’کمرے کے ہاتھی‘‘ یعنی بیورو کریسی کے وجود سے مکمل سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ستر سالوں میں اس ’’ہاتھی‘‘ کا سائز کئی گنا بڑا ہو چکا ہے‘ اس کے اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور اس کے پیدا کردہ مسائل اب لاینحل ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی جذباتی سطحیت سے یہی توقع تھی کہ یہ ’’ہاتھی‘‘ اسے بہت جلد شیشے میں اتار لے گا اور پھر یہ اسی کی زبان فر فر بولنے لگے گا اور ایسا صرف چند ماہ میں ہی ہو گیا تھا۔اس بیورو کریسی کا کمال یہ ہے کہ پہلے دن سے اپنے بارے میں ایک تاثر ضرور برقرار رکھتی ہے کہ اسے اصلاح (Refrom)کی سخت ضرورت ہے۔1773ء میں قائم ہونے والی اس بیورو کریسی کی اصلاح کے لئے لاتعداد کمشن بنائے گئے۔ مونٹیگو چمسینورڈ(montague chelmsford)کے کمشن سے لے کر عمران خان کے عشرت حسین کے کمیشن تک سب اسی تگ و دو میں مصروف رہے کہ بیورو کریسی کی اصلاح کیسے ہو۔ سب نے موٹی موٹی کتابیں تحریر کیں جو الماریوں کی زینت بنا دی گئیں لیکن کوئی اس کی ہیت تبدیل کر سکااور نہ ہی اس کے اختیار‘ تصرف اور بالا دستی میں کمی کروا سکا۔ یہ ہاتھی کمرے کے سائز‘ مالک کی خواہش اور اپنی حیثیت کے دفاع کے لئے خود کو ایسا ایڈجسٹ کرتا ہے کہ اس کا وجود کسی کو برا ہی نہیں لگتا‘ سب گزارہ کر لیتے ہیں۔

پاکستان بننے سے لے کر آج تک بیورو کریسی کی اصلاح پر لاتعداد کمیشن بنائے گئے۔ ہر کسی نے کمیشن بنانے کی وجوہات تحریر کیں۔ لیکن پندرہ دسمبر 1998ء کو ورلڈ بنک نے سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی اس رپورٹ کے مندرجات اور تجویز کئے گئے حل سے کوئی متفق ہو یا نہ ہو‘ اس نے آغاز میں اصلاح کے لئے جو سات وجوہات بتائی ہیں وہ اس بیورو کریسی کی بدحالی‘ نااہلی اور بددیانتی کی تصویر کشی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ وہ سات اہم خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی سول سروس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ 1۔اس کا ڈھانچہ ضرورت سے زیادہ سخت ‘ مرکزیت والا ہے اور اس کے قوانین کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اپنے اندر بھی مختلف طبقات کے لئے مختلف قانون رکھتی ہے جن کی وجہ سے سرخ فیتہ اس کی پہچان بن چکا ہے۔ 2۔ان کی مہارتوں کا ان کی نوکری اور عوام کے ساتھ ان کے واسطے‘ محکموں کی خصوصی نوعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ 3۔ان کے ہاں اندرونی طور پر پوچھ گچھ اور احتساب بالکل ختم ہو چکا ہے اور عوام کے سامنے تو یہ کبھی بھی جواب دہ نہیں رہے۔ 4۔یہ مکمل طور پر سیاسی پارٹیوں کی ٹیم بن چکی ہے اور اس کے فیصلوں پر انصاف کی بجائے سیاست غالب آ چکی ہے۔ 5۔ ان کے آپس کے گروپوں میں بھی سخت تنائو ہے بلکہ مرکزی حکومتی بیورو کریسی اور صوبائی بیورو کریسی میں تعاون نام کو بھی نہیں۔ 6۔ اس کے گریڈ ایک سے لے کر بائیس تک ہر سطح پر کرپشن ایک وبا کی طرح سرایت کر چکی ہے۔ 7۔ کارپوریٹ سیکٹر میں زیادہ تنخواہوں اور مراعات کی وجہ سے بیورو کریسی میں اہل اور قابل افراد آنے کم ہو چکے ہیں۔یہ ہے وہ تصویر جو 1998ء میں اس پاکستانی بیورو کریسی کی بنائی گئی۔ آج 22سال گزرنے کے بعد یہ تصویر زیادہ خراب اور بوسیدہ ہو چکی ہے اور یہی بوسیدہ تصویر پاکستان کے مرکز اقتدار کے ہر کمرے میں ایک دیوہیکل ہاتھی کی صورت موجود ہے‘ جس کے موٹے موٹے پائوں تلے عوام کچلی جا رہی ہے اور حکمران اس پر سواری کے مزے لے رہے ہیں‘ لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ اس کی سواری خطرناک ہے‘ یہ کسی بھی دن فیصلہ کر لے تو سوار اوپر سے ایسے گراتی ہے کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ زمین پر آ چکا ہے۔(ش س م)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close