کرائم بیٹ

بلو چستان میں بجلی کی آنکھ مچولی—– (شیخ فرید )

خطہء بلوچستان ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا مختلف محل و وقوع اور آب و ہوا پر مشتمل ہے ۔یہاں کہیں لق ودق صحراء ہے تو کہیں سرسبز کھیت و کھلیاں نظر آتے ہیں ۔کہیں سطحِ مرتفع ہے تو کہیں پہاڑی سلسلہ طول و عرض پر اپبی کشادگی لیے ہوئے ہے ۔
بلوچستان کی منتشر آبادی جہاں کئی سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے وہاں تعلیم ، صحت مواصلات اور رھائشی مسائل کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا مسلہ بجلی کی ترسیل و فراہمی ہے ۔بجلی جو انسانی ضروریات میں سرِ فہرست اور بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور اِس کے بغیر آج کی زندگی کا تصور ناممکن ھے اہلِ بلوچستان کو اِس کی کمی کا شدید سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بجلی کی آنکھ مچولی نے بلوچستان میں حیات تنگ کردی ہے ۔اور جب زندگی مفلوج ھوکر رہ جائے تو عوام الناس اجتجاج پر مجبور ہو جاتا ہے ۔یہی صورت حال ان دنوں پورے بلوچستان میں ہے اور بلخصوص کوئٹہ کے شہریوں کو بجلی کی عدم فراہمی سے دوہری مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف عوام کی شکایت کا انبار ہے کہ کیسکو عوام سے زیادتی کررہا ہے اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شڈنگ عوام کا جینا حرام ہوگیا ہے تو دوسری طرف کیسکو کو یہ گلہ ہے بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کو شدید ترین مالی بحران کا سامنا ہے ۔ہم نے کیسکو کی تازہ ترین رپورٹ اور بلوں کی ادائیگی کا ڈیٹا حاصل کرکے ایک سرسری جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ۔اِس کے مطابق جو اعداد و شمار اکھٹے ہوِے ہیں اُس سے معلوم ہوا ہے کہ رواں مالی سال میں نومبر 2019 ء تک کیسکو کو 319 ارب روپے کے بلوں کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق بلوں۔کی عدم ادائیگی پر 28 زرعی ٹیوب ویلوں کی بجلی کاٹ دی گئی ہے۔مذید ایسے نام دہندگانوں کے بجلی کنکشن منقطع کئے جارہے ہیں ۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کیسکو۔کو صوبائی حکومتِ۔بلوچستان نے 19 ارب روہے ادا کرنے ہیں ۔اسی طرح زرعی صارفین کے ذمہ 242 ارب واجب الا دا ہیں ۔وفاقی محکموں کے ذمہ ڈیڑھ ارب روپے ، گھریلو اور کمرشل صارفین کے ذمہ تقریباّ 16 ارب ، محکمہ جیل خانہ جات 67 ملین ، ایگریکچر 255 ملین ، محکمہ خوراک بلوچستان 64 ملین ، فشرینز 73 ملین ، محکمہایریگیشن۔بلوچستان 99 ملین ، لائیو اسٹاک 62 ملین ، بلوچستان بلڈنگ 111ملین ، بلوچستان پولیس 768 ملینروپے کی ادائیگی کرنی ہے ۔
اسی طرح پبلک ہیلتھ انجیئرنگ کے ذمہ7132 ملین ، محمکہ تعلیم بلوچستان کے ذمہ 5312 ملین لوکل گورنمنٹ اینڈ رول ڈلولپمنٹ کے ذمہ 703 ملین ، بلوچستان ڈلویلپمنٹ اتھارٹی 19 ملین ، انڈسٹریل 60 ملین ، ویٹنرری 36 ملین ، پاپولیشن پلاننگ 32 ملین ، محکمہ صحت بلوچستان 1998 ملین ، محکمہ سوشل ویلفئر 90 ملین ، کیو ، ڈی اے 12 ملین ، واسا 496 ملین ، لوکل باڈیز612 ملین ، گوادر ڈلویلپمنٹ اتھارٹی 10 ملین ، بلوچستان کمشنر 661 اور محمکہ خزانہ نے کیسکو کو 24 ملین کی ادا ئیگی کرنی ہے ۔وفاقی اداروں نے بھی تاحال بلوں کی ادائیگی نہیں کی ہے ۔ان میں محکہ ڈاک کے افسران نے 124 ملین ، اور ٹیلی کمیو نیکیشن کے ذمہ 241 ملین روپے کی ادائیگی ہے ۔ مجموعی طور پی ٹی سی ایل نے 110 ملین الیکشن۔کمیشن نے 14 ملین سینٹرل ایکسائز کسٹم نے 57 ملین ، ڈی۔جی رجسٹریشن 38 ملین پلائب پروڈکشن 16 ملین سوئی سدرن گیس نے 26 ملین ، نیشنل۔بنک آف پاکستان نے 15 ملین ، بلوچستان یونیورسٹی نے 11ملین ، میٹرولوجیکل ڈیپارمنٹ 7 ملین ، آرکیالوجی 12 ملین ، اور نیشنل ھائی وے کے ذمہ 6 ملین روپے کی ادائیگی ہے ۔دوسری جانب عوام کو بجلی۔جیسی۔بنیادی سہولت کیفراہمی کو یٰقینی بنانے کیلیے وزارت فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے بھی اپنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے ۔ جس کے مطابق سال نو میں ملک بھر ، 30 ,ہزار سولر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کا پروگرام تشکیل دیا ہے ۔بلوچستان میں چار ہزار سولر ٹیوٹ ویل لگانے کا منصوبہ ہے تاہم متعلقہ احکام کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبے تاحال شروع نہیں۔کئے جا سکے ہیں ۔ان منصوبوں سے بلوچستان میں جدید زرعی اصلاحات کا انقالاب لانا ہے ۔بلوچستان میں 3272 سولر لگائے جائیں گے ۔کیسکو کے چیف ایگزیکٹیو انجیئر محمد عارف کے مطابق واپڈااپنے سسٹم میں بہتری لا رہا ہے ۔اور نئے گرڈ اسٹیشن سمیت سرکٹ ٹرانمیشن کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔اُنھوں نے گذشتہ دنوں نیشنل الیکٹرزپاورریکولیٹرٹی اتھارٹی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 31 اضلاع می ۔چھ پریشن سرکلر چودہ آپریشن ڈویژنز کام کررہے ہیں ۔اس طرح کیسکو کم و بیش 6 لاکھ واپڈا صارفین کو بجلی کی سہولیات فراہم۔کر رہا ہے ۔۔

Show More

Related Articles

18 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close