شعر و شاعری

سخنورانِ قصور (ایک ادبی معرکہ) تحریر : عابد عمر

ضلع قصور بلاشبہ ادبی حوالے سے ایک زرخیز خطہ ہےبابا بلھے شاہ سے شروع ہونے والے اس ادبی سفر کو نت نئے زاویوں سے آگے بڑھاتے ہوئے شعرا کرام ضلع قصور کی پہچان بنے اور اس ادبی وراثت کو نسل در نسل منتقلی کی طرف گامزن کیا۔کچھ شاعر تو دل و دماغ پر نقش ہو کر رہ گئے اور کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بے اعتناعی کا شکار ہوتے گئے۔محمد لطیف اشعر ایک اچھے شاعر تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ ضلع قصور میں ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات بھی نمایاں ہیں۔لطیف اشعر صاحب نے شبانہ روز محنت سے ان شعرا کرام پر تحقیق کا آغاز کیا اور بالآخر اسے پایہءِ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب رہے ۔ موجودہ شعرا کرام تو کسی نہ کسی طور میسر تھے لیکن جو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا لیکن اس نوجوان نے ہمت نہیں ہاری۔ایک ایک شاعر کے لواحقین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان سے معلومات اور کلام حاصل کیا۔اور باقاعدہ طور پر حوالہ جات کے ساتھ شائع کیا۔کچھ بے ادب لوگوں کے ڈسے ہوئے تو صریحاً کلام دینے سے انکاری تھے لیکن لطیف کے مخلصانہ رویے کے پیشِ نظر وہ کلام دینے پر راضی ہوئے۔اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں صرف اُردو کلام شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی خاص طور پر ان لوگوں کاجو حقیقی طور پر اس کے اہل تھے۔کسی بھی شاعر کی سماجی حیثیت کو یکسر نظر انداز کر کے کلام کی پختگی اور صِحت کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔اس سے پہلے بھی ایک صاحب نے اسی حوالے سے ایک کتاب مرتب کی تھی لیکن وہ فنی کوتاہیوں سے پر تھی کیونکہ اس میں پختہ کاروں کے ساتھ ساتھ بے وزن شعرا کو جگہ دے کر چوں چوں کا مربہ بنا دیا گیا تھا یہ انتخاب اورتحقیق ایک صدی پر محیط ہے ایسے شعرا کرام جو ہماری پیدائش سے بھی برسوں پہلے رزقِ خاک ہو چکے ہیں اور جن کے نام تک سے آشنائی نہیں تھی لطیف اشعر کی محنت سے کتابی شکل میں محفوظ ہو چکے ہیں میری ناقص رائے کے مطابق لطیف اشعر نے ایک بہت بڑا ادبی معرکہ سر انجام دیا ہے ۔ دوسرے لفظوں تاریخ رقم کی ہے ۔ جو آنے والی نسلوں کو سہولت سے دستیاب ہو گی۔علاوہ ازیں راقم الحروف کے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ شہر کوٹ رادھاکشن کے بیسیوں شعرا کرام کے ہوتے ہوئے بندہءِ ناچیز کے تعارف و کلام کو کتاب میں شامل کیا گیا۔
دعا ہے کہ اللہ کریم لطیف اشعر کو قدم قدم پر کامیابیاں عطا فرمائے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close