دلچسپ

دنیا کی وہ جیل جو 45منزل پر مشتمل ہو گی ، جیل کونسا ملک تعمیر کروا رہا ہے ؟ جانئے

نیویارک(این این آئی) امریکی شہر نیویارک جہاں اپنی فلک بوس عمارتوں کیلئے مشہور ہے وہیں اس کا شمار دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ اب نیویارک کے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے اونچی جیل بنائی جائے جس کی 45 منزلیں ہوں گی اور جہاں مختلف جیلوں میں رکھے گئے قیدی منتقل کیے جائیں گے۔یہ جیل اپنی تعمیر سے لے کر سکیورٹی انتظامات تک، ہر چیز کے اعتبار سے ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگی (البتہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں)۔ تاہم اتنا ضرور طے ہے کہ اسے اتنا مضبوط

بنایا جائے گا کہ شدید دھماکے اور زلزلے میں بھی صحیح سالم رہ سکے۔ یہ امکان بھی ہے کہ اس میں قیدیوں کو اپنے دور دراز عزیزوں سے بذریعہ انٹرنیٹ رابطے کی محدود سہولت بھی دی جائے گی لیکن اس دوران بھی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔فی الحال نیویارک کے قریب ایک جزیرے پر ’’رائکرز آئی لینڈ کمپلیکس‘‘ نامی جیل قائم ہے جس کا رقبہ 43 ایکڑ ہے جہاں اس وقت 11 مختلف جیلوں سے لائے گئے 7000 قیدی رکھے گئے ہیں۔ تاہم اب اس جیل کو ختم کرکے اس کی جگہ مرکزی نیویارک سٹی میں 45 منزلہ جیل بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نیویارک اسٹیٹ کے مزید تین شہروں میں بھی اسی طرح کی فلک بوس جیلیں بنانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔امریکا میں انسانی اور سماجی حقوق کے علمبردار حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ ایک کھلی جگہ میں قیدیوں کے پاس چلنے پھرنے کے بہتر مواقع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی صحت زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، چھوٹی جگہ پر بلند و بالا عمارت میں قید کیے جانے پر ان کا چلنا پھرنا محدود ہوجاتا ہے جس سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اندر بلند و بالا قید خانے کی عمارت نہیں بننی چاہیے، خواہ وہ کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی سے کیوں نہ آراستہ ہو۔اس تنقید کے جواب میں میئر نیویارک نے ایک اعلان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا اصل مقصد جرائم میں کمی لانا ہے تاکہ کم سے کم لوگوں کو جیل میں ڈالنا پڑے۔متوقع طور پر ان تمام جیلوں میں مجرموں کی ذہنی تربیت اور نفسیاتی بحالی کے خصوصی پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، نیویارک کے حکام نے ان عمارتوں کی اونچائی کم کرکے 29 منزلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یہ عمارتیں 2026 تک مکمل ہوجانے کی امید ہے۔

Show More

Related Articles

24 Comments

  1. hey there and thank you for your info – I’ve certainly picked up anything new from right
    here. I did however expertise some technical issues using this site, as I experienced to reload
    the site a lot of times previous to I could get it
    to load correctly. I had been wondering if your hosting is OK?
    Not that I am complaining, but sluggish loading instances times will sometimes
    affect your placement in google and could damage your high quality score if
    advertising and marketing with Adwords. Anyway I am adding
    this RSS to my e-mail and can look out for a lot more of your respective exciting
    content. Make sure you update this again soon. https://cialis.studiowestinc.com/tadalafil

  2. Great – I should definitely pronounce, impressed with your website. I had no trouble navigating through all tabs and related information ended up being truly easy to do to access. I recently found what I hoped for before you know it at all. Reasonably unusual. Is likely to appreciate it for those who add forums or anything, web site theme . a tones way for your customer to communicate. Nice task.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close