انٹرنیشنل

شمالی شام میں ترکی اور روس کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ

الرقہ( آن لائن )شام میں الرقہ صوبے کے شہر "عین عیس” میں ایک فوجی اڈے پر تعینات روسی فورسز نے ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں کو بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔ جواب میں ترکی کی جانب سے بھی گولہ باری کی گئی۔شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد نے تصدیق کی کہ روسی فوجی اڈے کی جانب سے ترکی کے ہمنوا گروپوں کے ٹھکانوں پر 5 راکٹ داغے گئے۔ اس پر ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 راکٹ داغے جو روسی اڈے کے احاطے میں گرے۔المرصد کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی فورسز

اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان ایک اجلاس ہوا۔ اس موقع پر روسی فورسز نے باور کرایا کہ ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں کے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔روسی فورسز شمالی شام میں سیکورٹی اقدامات میں شریک ہیں۔ اس دوران ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں ،،، اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان سیف زون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انقرہ نے شمالی شام میں کرد گروپوں کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔ یہ گروپ دبا کے تحت پیچھے ہٹ گئے۔ بعد ازاں واشنگٹن اور ماسکو کی جانب سے مداخلت سامنے آئی تا کہ شمالی شام میں سرحد سے 30 کلو میٹر اندر تک ایک سیف زون کے قیام پر عمل درامد ہو سکے۔ اس کوشش کا مقصد ترکی کی سرحد پر کرد گروپوں کی موجودگی کے حوالے سے انقرہ کے اندیشوں کو دور کرنا ہے۔

Show More

Related Articles

18 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close