اداریہ

تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس اداریہ )

پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس اتوار کو بنی گالہ میں چیئرمین وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں مہنگائی کے باعث عوامی مشکلات بڑھنے اور اس حوالے سے پارٹی پر پڑنے والے منفی اثرات فوری زائل کرنے کی سفارش کی گئی۔ کور کمیٹی نے سبزیوں، پھلوں، دالوں ، چینی آٹے، نان روٹی اور سالن کی پلیٹ عام شہری دسترس میں رکھنے کے لیے انتظامی مشینری کو متحرک رکھنے کے لیے ہدایات دینے کی بھی گائیڈ لائن دی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ٹریڈ یونینز کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خاں کے بقول اس وقت ملک کو درپیش دو بڑے چیلنجز مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی بدظن ہیں اور وہ مہنگائی کا ایشو لے کر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر کے موقع کی تاک میں ہوتی ہیں۔جب حکومتی معاشی ٹیم، معیشت کی بہتری کے اشارے دے رہی ہے تو اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچنے چاہئیں۔ یہ تو معاشی ٹیم کو معلوم ہونا چاہئے کہ اپوزیشن کے پاس حکومت کے خلاف مہنگائی اور بے روزگاری کا ایشو ہی سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے اور یہ دونوں مسائل عروج پر ہیں۔ جس کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ مہنگائی اس قدر عام ہے کہ جہاں دو آدمی مل بیٹھیں گے ، بات چیت کا موضوع مہنگائی ہی ہو گا۔ اوپر سے ہمارے ہمہ دان مشیر اور وزیر صاحبان، جب ٹماٹر سترہ روپے کلو اور مٹر پانچ روپے کلو بتائیں گے تو یہ عوام کے زخموں پر نمک نہیں مرچیں چھڑکنے کے مترادف ہو گا۔ اسی طرح بے روزگاری بہت بڑا عذاب ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مائیں بچوں کو آگ میں جلا کر یا پانی میں ڈبو کر خودکشیوں پر مجبور ہیں اور جو خودکشی کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔ وہ جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ ڈکیتیوں اور چوریوں کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، بے روزگاری کا ہی نتیجہ ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے رسد و طلب کے نظام پر موثر کنٹرول اور مارکیٹ کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بے روزگاری کو کم کرنے کیلئے مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے۔ سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو آسانیاں اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا موجب بن سکیں وگرنہ موجودہ صورتحال میں انتظامی مشینری کو چھاپوں اور پکڑ دھکڑ پر لگا دیا گیا تو پارٹی اور حکومت کا امیج مزید خراب ہو گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close