صحت

ڈینگی وائرس کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار دریافت

نیویارک(این این آئی)دنیا بھر میں ہونے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھروں پر حملہ کرنے والے بیکٹیریا کی مدد حاصل کرنے سے ڈینگی بخار کے کیسز میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔وولباکیا بیکٹیریا ان کیڑوں کو مارنے کے بجائے ان کے لیے وائرس پھیلانا مشکل بنا دیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج بہت اہم ہیں اور فیلڈ میں کیے جانے والے تجربات میں کیسز میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔ ڈینگی کنٹرول کرنے کے نئے طریقوں کی فوری ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ 50 برسوں میں ڈینگی کے کیسز میں بے تحاشہ

اضافہ ہوا ہے۔اس کی علامات ہر شخص میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ کچھ لوگوں میں نزلہ و زکام جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔کچھ لوگ تو ڈینگی سے ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پٹھوں اور ہڈیوں میں سخت درد کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ موسکیٹو پروگرام کے پروفیسر کیمرون سِمنزنے کہاکہ یہ ملیریا جتنی ہلاکتوں کا سبب تو نہیں بنتا مگر یہ بے تحاشہ بیماری پھیلاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔دنیا بھر میں کئی تجربات جاری ہیں۔ ان میں سے ایک کے نتائج تحقیقی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے ہیں اور سائنسدان امریکن سوسائٹی آف ٹروپیکل میڈیسن اینڈ ہائیجین کی سالانہ میٹنگ میں دیگر ڈیٹا پر بحث کر رہے ہیں۔برازیل کی اوسوالڈو فاونڈیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لوسیناو موریرا نے کہاکہ ہم نے جن علاقوں میں بیکٹیریا والے مچھر چھوڑے ہیں وہاں چکن گنیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اس علاقوں کی نسبت 70 فیصد کم ہوئی ہے جہاں وائرس زدہ مچھروں کو نہیں چھوڑا گیا۔امریکن سوسائٹی فار ٹراپیکل میڈیسن اورہائیجین کے صدر ڈاکٹر چینڈی جان نے کہاکہ جب ڈینگی وائرس کو روکنا مشکل ہو رہا ہے تو ایسے حالات میں یہ ایک بہت عمدہ کام ہے۔مگر ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طریقہ کی کامیابی کا انحصار جدید سائنس اور لوگوں کی بھرپور شمولیت پر ہے۔

Show More

Related Articles

22 Comments

  1. Very great post. I simply stumbled upon your blog and wanted to mention that I have really loved surfing around your blog posts. After all I will be subscribing to your feed and I’m hoping you write again soon!

  2. Definitely believe that which you said. Your favorite reason appeared to be on the net the simplest thing to be aware of. I say to you, I definitely get annoyed while people think about worries that they just do not know about. You managed to hit the nail upon the top as well as defined out the whole thing without having side-effects , people can take a signal. Will likely be back to get more. Thanks

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close