شہر شہر

لاک ڈاون کا 11 واں روز۔۔!! معمولات زندگی درہم برہم ،غریب عوام راشن سے محروم۔۔ بات فاقوں تک آ پہنچی

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ میں لاک ڈاون کا گیارہواں روز ہے. گھروں میں رہنے کی پابندی کو عوام نظر انداز کر رہے تو غریبوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے دعوے بھی دھرے رہ گئے ہیں. مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ بری طرح رل رہا ہے. غریب کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں

جائیں تو کہاں جائیں.راشن کے جو وعدے تھے وہ وفا نہ ہوسکے۔ کراچی میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے راشن کی تقسیم کا سلسلہ اب تک شروع ہی نہیں ہوسکا،جس کی وجہ سے غریب عوام بھوکے رہنے پر مجبور ہیں۔مستحق افراد یونین کونسلوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں. گیارہ روز سے یہ بے بس لوگ راشن کی تلاش میں لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ بلدیاتی نمائندوں سے پوچھے پر پتا چلا کہ ڈپٹی کمشنر نے ایک ہفتے قبل ہر یوسی میں سو بیگز راشن دینے کا کہا جب کہ متاثرین کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ چیئرمین یوسی اٹھارہ ضلع کورنگی فرحان علی کہتے ہیں کہ اب تک ایک بھی راشن کا بیگ نہیں ملا ہے جبکہ فوری طور پر ہر یوسی میں ایک ہزار بیگز راشن کی ضرورت ہے. انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ بھی خیال کریں اور امداد کریں۔ راشن کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکرے کھاتے کورنگی کے عوام کہتے ہیں زندگی پہلے بھی اتنی آسان نہیں تھی لیکن اب مزید مشکل ہوگئی ہے. بچے بھوک سے بلک رہے ہیں بزرگ رل رہے ہیں اس عمر میں بھی آرام میسر نہیں ہے۔ چیئرمین یونین کونسل سولہ ضلع کورنگی شیزاز غوری کا کہناہے کہ نظام بنانے کے نام پر وقت ضائع کیا جارہاہے.جتنا وقت بڑھے گا اتنے ہی متاثرین بڑھتے جائیں گے۔بلدیاتی نمائندوں نے حکومت سے فوری راشن کی ترسیل کی اپیل کردی ہے. اس سے قبل سرجائی ٹاون میں جعلسازوں نے راشن تقسیم کے نام پر پچاس اور دو سو کے ٹوکن بیچ کر غریبوں کا چونا لگایا. اتنے بڑے شہر میں غریب اس مشکل وقت میں بھی پریشان حال ہے. جب بہت سے افراد گھروں میں آرام کر رہے ہیں غریب اب بھی دو وقت کی روٹی کیلئے دھکے کھانے پر مجبور ہے.

Show More

Related Articles

Back to top button
Close
Close