صحت

نزلہ، زکام یا بخار کا ہونا کوروناوائرس کی علامت نہیں،طبی ماہرین

لاہور (نیوز ڈیسک) نزلہ، زکام یا بخار کا ہونا کرونا وائرس کی علامت نہیں ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے اگر کسی شخص کو بخار اور زکام کیساتھ سانس لینے میں غیر معمولی دشواری کا سامنا ہے، تو یہ وائرس کی علامت ہے جس کے بعد طبی ماہرین سے رابطہ یا خود کو قرنطینہ کر لینا چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔اس صورتحال میں ہسپتالوں میں صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور مریضوں کے رش میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہر وہ شخص جسے نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کی شکایت ہے، تو اس شک میں مبتلا ہے کہ کہیں اسے کرونا وائرس تو نہیں

ہوگیا، اور پھر فوری ہسپتال کا رخ کر رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں طبی ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ہسپتالوں کا رخ کرنا بہت خطرناک ہے۔اگر کوئی شخص تندرست بھی ہے، تو وہ ہسپتال کا رخ کر کے، جہاں پہلے سے کئی لوگ موجود ہوں گے اور ممکنہ طور پر کوئی وائرس سے متاثرہ شخص بھی وہاں موجود ہو، اس باعث ایک تندرست شخص بھی وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی نہیں کہ نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کی شکایت کرونا وائرس کی علامت ہی ہو۔ کرونا وائرس کی اصل علامت یہ ہے کہ جب کسی شخص کو نزلہ، زکام، بخار یا کھانسی کیساتھ سانس لینے میں غیر معمولی دشواری ہو رہی ہے۔ایسا ہونے کی صورت میں یا تو ہسپتال کا رخ کرنا چاہیئے، یا خود کو قرنطینہ کر لینا چاہیئے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ جو لوگ سانس کی بیماری میں مبتلا ہیں، وہ اپنی اس بیماری کو کرونا وائرس کی علامت مت سمجھیں۔ وہ شخص جسے سانس کی بیماری نہیں ہے، اسے بخار، زکار کیساتھ سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہو رہی ہو تو ایسے شخص کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب کرونا وائرس کی علامات والے افراد کو بروفین کا استعمال نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مریضوں کو بخار اور سوزش کے خاتمے کی دوا ’’بروفین‘‘ دینے کی صورت میں ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close