انٹرنیشنل

پاکستانی بہنوں کو پناہ دی جائے گی یا نہیں؟ برطانیہ کی عدالت نے اپنا فیصلہ سُنا دیا

برطانیہ (نیوز ڈیسک ) برطانیہ کی عدالت نے پاکستانی ہم جنس پرست بہنوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا۔دونوں بہنوں کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے سے قبل آخری موقع دیا گیا ہے،دونوں بہنوں کی گذشتہ سال اس حوالے سے درخواست مسترد کی جا چکی ہے۔پاکستان سے دھمکیاں ملنے کا ریکارڈ ہونے کے باوجود جج نے

ان کی سابقہ درخواست کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ “قابل یقین” نہیں ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں جس کے بعد ان کے وکیل کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اپنی درخواستگزاروں کو ڈی پورٹ ہونے سے بچا سکیں۔بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے شہر سٹاک پورٹ میں مقیم 52 سالہ ثمینہ اور 48 سالہ نازیہ ہم جنس پرست ہیں۔دونوں بہنوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع ساہوال سے ہے۔۔دونوں بہنوں کا کہنا ہے کہ انہیں 20 سال قبل یہ احساس ہوا کہ ان کے جنسی رحجانات دوسروں سے مختلف ہیں۔والدین کی وفات کے بعد انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں جس کے بعد انہوں نے اپنے ملک چھوڑ کر برطانیہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔دونوں بہنوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔تاہم برطانوی عدالت نے دونوں بہنوں کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کاعمل شروع کیا جانا تھا تاہم دونوں ہم جنس پرست بنہوں کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل آخری موقع پر روک دیا گیا۔ہوم ڈپارٹمنٹ نے دونوں بہنوں کو پاکستان بھیجنے کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔نازیہ اور ثمینہ کا کہنا ہے کہ انہیں برطانیہ میں بھی پاکستان سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور اگر پاکستان بھیج دیا گیا تو جان کو شدید خطرات لاحق ہوں گےدونوں بہنوں کو پناہ دینے کے حوالے سے برطانوی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں ہم جنسی پرستی غیر قانونی ہونے کے باوجود ہم جنس پرستوں کے گروہ موجود ہیں اور وہ وہاں محفوظ بھی ہیں۔

اس لیے ان بہنوں کی پناہ کی درخواست مسترد کی گئی ہے۔ دونوں بہنوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب سب کو بتا دیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔تاہم یہ بات ان کی اصل درخواست میں درج نہیں تھی،دونوں نے درخواست دینے کے بعد انٹرویو میں یہ بات بتائی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر نازیہ اور ثمینہ کو پاکستان بھیج دیا گیا تو وہاں انہیں شدید خطرات لاحق ہوں گے جب کہ دونوں بہنوں نے اس سلسلے میں کھل کر رائے کا اظہار کیا ہے جس کے بعد سے وہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بن چکی ہیں۔وکیل نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم ہے عدالت کو قائل کرنے کے لیے مزید کیا ثبوت درکار ہوں گے جب کہ پہلے ہی دونوں بہنوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور ان کے بہنوئی کو پہلے ہی دھمکی آمیز پیغامات دئیے جا رہے ہیں۔ برطانوی ہوم آفس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2016ء سے 2019ء تک 2000 سے زائد پاکستانیوں نے ہم جنس پرست ہونے کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔اب تک تقریبا 1200 پاکستانی مرد و خواتین کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں کیونکہ وہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان دونوں بہنوں نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا تعلق ایل جی بی ٹی کمیونٹی سے ہے اور واپس اپنے ملک جانے کی صورت میں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس لیے انہیں برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت دی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close