تازہ ترین

اپٹما حکومت کے خلاف ڈٹ گئی ….!! پورا پنجاب بند کرنے کی دھمکی دے دی

فیصل آباد (ویب ڈیسک ) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) اور حکومت کے درمیان بجلی کے بلوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بجلی کے یکمشت بھجوائے گئے بقایاجات ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اپٹما رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو کو آگاہ کردیا ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر کی ملیں جلد بند کردی جائیں گی۔ اپٹما کے مطابق 12 ماہ کے بقایا جات بل یکمشت بھجوا دیئے گئے ہیں، کروڑوں روپے کے اضافی بل ادا نہیں کر سکتے، یہ وزارت توانائی و پٹرولیم کا ظلم ہے، ان حالات میں ملیں نہیں چل سکتیں، اس سے دس لاکھ مزدور بے روز گار ہو

جائیں گے۔واضح رہے کہ بجلی کے بلوں میں اضافی سرچارجزکی وصولی کی بنا پر تمام ملوں کو 40 فی صد اضافی بل بھیج دیے گئے ہیں اور فی یونٹ قیمت 12 کے بجائے 20 روپے وصول کی جا رہی ہے۔مزید پڑھئیے ::کوئٹہ(ویب ڈیسک ) پاک ایران سرحد پر پھنسے لوگوں کاکہنا ہے کہ اس وقت ایسے ہی ہے جیسے ہم جیل میں ہیں اس وقت 300کے قریب پاکستانی پاک ایران سرحد پر پاکستان ہاوس میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں موجود ہیں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ 14دن سے پہلے یہاں سے نہیں نکل سکتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ہال ان کے لیے قید خانہ بن چکا ہے غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہزاروں زائرین ایران میں بھی موجود ہیں تاہم سرحد سیل کر دی گئی ہے یوں نہ صرف زائرین بلکہ کاروباری افراد اور ڈرائیور بھی سرحد کےاس پار پھنس کر رہ گئے ہیں اسسٹنٹ کمشنر تفتان مجیب اللہ قمبرانی نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کی واپسی کی درخواست کی تھی جس کے نتیجے میں 307ایرانی شہریوں کو سرحد پار جانے دیا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس جانب سے کوئی اور پاکستانی ملک نہیں لوٹا ان کا کہنا تھا کہ جو بھی آئے گا اسے قرنطینہ میں 14 دن گزارنے ہوں گے خیال رہے کہ بہت سے پاکستانی زائرین ایران سے آگے شام، عراق اور سعودی عرب بھی جاتے ہیں یہ زائرین اس وقت کوئٹہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں یہ پاک ایران سرحد پر زائرین کے لیے موجود پاکستان ہاؤس ہے جسے 2017ء میں بنایا گیا تھا اس عمارت میں وسیع ہال ہیں لیکن اس وقت اس کے مرکزی گیٹ کو بند کر دیا گیا ہے اور اسے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور یہ ٹینٹ بھی اسی کا حصہ ہیں جو حال ہی میں نصب ہوئے ہیں پاکستان ہاؤس میں موجود ایک قافلے کے سالار اور ان کے ساتھ موجود زائر ین نے غیرملکی خبررساں ادارے کوبتایا کہ ہم اس وقت ایسے ہی ہیں جیسے ایک جیل میں ہیں انہوں نے باہر تالا لگا رکھا ہے ہم باہر نہیں جا سکتے نہ ہی کوئی اندر آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر آئیں گے آپ کو چیک کریں گے کھانا آپ کو یہیں ملے گاحالانکہ کہ پہلے جب ہماری سکریننگ ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ میں سے کسی میں بھی کرونا وائرس کی علامات نہیں ہیں ہم 23 جنوری کو گھر سے نکلے تھے پھر تفتان سرحد کراس کر کے قم میں گئے پھر کربلا گئے پھر شام سے واپس مشہد لوٹے ہم 19فروری کو واپس پاک ایران سرحد پر تفتان پہنچے یہاں تین سو لوگ اکھٹے ہو چکے ہیں جن میں دو بچے اور تقریبا سو کے قریب خواتین ہیں ایران میں تو ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا ہم یہاں پہنچے تو ہماری تیاری تھی اگلی صبح گھر واپسی کا سوچ رکھا تھایہاں سرحدی حکام نے ہمیں کہا کہ آپ کو ایک دو دن میں یہاں سے نکالا جائے گا لیکن پھر انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم آئے گی آپ کو چیک کرے گی ابھی وائرس آیا ہوا ہے آپ کو جانے کی اجازت نہیں مل سکی ڈاکٹرز کی ٹیم تو نہیں آئی ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے ہماری سکریننگ کی پھر کہا کہ ابھی آپ کو 14 دن ادھر ہی رہنا ہے پھر حکام نے ہمیں کہا کہ پاکستان ہاؤس کے باہر ڈاکٹر موجود ہیں وہ آپ کو دیکھنے آئیں گے مگر ابھی تک تو کوئی نہیں آیاانہوں نے باہر تمبو(ٹینٹ)لگائے ہیں ان میں دو دو بیڈ بھی لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر زائرین میں سے کوئی بیمار ہوا تو اسے وہاں شفٹ کیا جائے گاابھی یہاں ایک خاتون دل کی مریضہ ہیں ایک اور مریض کی ٹانگ سوج رہی تھی انھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو ڈاکٹر نے چھ سات فٹ دور سے انھیں دیکھا اور دوا ان کی جانب دور سے پھینک دی یہ کوئی طریقہ علاج تو نہیں ہے دوسرا مریض ابھی بھی دوا کا منتظر ہے انہوں نے ہم میں سے کسی کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک ماسک تک نہیں دیایہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ 100کے قریب زائرین کو یہاں سے نکال دیا گیا ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے پہلے دو تین دن تو ہم اپنے پیسوں سے کھانا خرید رہے تھے لیکن پھر کل سے انہوں نے مفت میں کھانا دینا شروع کیا ہے یہاں سردی کی شدت تو نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم 14 دن یہاں کیسے رہیں گے؟ یہاں ہال موجود ہیں جن میں کارپٹ بچھی ہوئی ہے اور ہم اس پر بستر لگا کر سوتے ہیں بستر ہم نے 50روپے روزانہ کرائے پر لیے ہوئے ہیں ہمیں وضو کرنے میں پریشانی ہے اور نہانے کا تو ہم سوچ نہیں سکتے کہ بیمار ہی نہ ہو جائیں ابھی یہاں جتنے بھی لوگ موجود ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں ہاں ایک دن یہاں زائرین نے شور مچایا احتجاج کیا تھا کہ جانے دیا جائے ابھی ہم نے کوئٹہ کا سفر 10سے بارہ گھنٹے میں طے کرنا ہے ہم سے کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے ایران سے اپنے بعد پہنچنے والوں سے بھی میل جول کیا تو پھر آپ کے 14دن دوبارہ سے شروع ہو جائیں گے ہمارا سوال یہ ہے کہ 22کے بعد بھی بائی ائیر آنے والوں کو تو ملک کے مختلف حصوں میں جانے دیا گیا ہمارے لیے پابندی کیوں ہے ہم تو دیوار سے صرف سو گز کا فاصلہ طے کرتے ہیں ہم یہاں پھنسے ہوئے ہیں ہم لوگ ایک دن میں ایک پھیرا کرتے ہیں یہ دیوار ہے اس کو کراس کر کے آج جاتے ہیں سو گز کا ہی تو فاصلہ طے کرتے ہیں آگے تو نہیں جاتے ہم سامان اتار کر چلے جاتے ہیں یہ پاکستان اس دیوار سے نظر آرہا ہے انہوں نے گیٹ سیل کر دیا ہے ہمیں تو جانے دیا جائے یہاں نہ روٹی ہے نہ کھانے پینے کا انتظام ہے ہم آتے ہوئے بھی ایران کی جانب سے کلیئر کیا ہوا ہے ہمارا چیک اپ ہوا ہے جو لوگ آگے جاتے ہیں ان کا چیک اپ کیا جائے ایرانی حکام پاکستان کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے بندے لے لیں ہمارے دے دیں لیکن پاکستانی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بندے نہیں چاہیے اس وقت سرحد پار تو ہزاروں زائرین موجود ہیں جوب فی الحال پاکستان نہیں لوٹ سکتے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں سے تفتان کی سرحد تک جانے کا سفر طے کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں یہ لوگ کوئٹہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں لاہور کے رہائشی عمران بھی ان زائرین میں شامل ہیں جو اپنے کنبے کی خواتین اور بچوں کے ہمراہ ایران جانے کی منتظر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹرین کے ذریعے ایک لمبا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے ہیں راستے میں پتہ چلا کہ راستہ بند ہے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وائرس کا مسئلہ تو ہے لیکن ائیر پورٹ پر یا جو گزرگاہ ہے وہاں احتیاطی تدابیر اپنائیں ہم پورا تیار ہو کر آئیں ہیں کہ زیارت کریں فی الحال ہم یہی کہیں گے کہ ہمیں جانے دیا جائے ہم تین چار پانچ دن تک تو انتظار کریں گے پھر واپس چلے جائیں گے ر اولپنڈی سے آنے والے مجتبی کہتے ہیں کہ منگل کی صبح وہ کوئٹہ پہنچے ہیں ہم پانچ لوگ آئے ہیں ہمیں کہا گیا ہے کہ انتظار کریں اب کتنا انتظار یہ ہمیں نہیں پتہ۔ دیکھتے ہیں ابھی زیادہ انتظار کرنا پڑا تو ہم واپس چلے جاتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close