پاکستان

حیران کن انکشاف: کیا وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر اپنی معاشی ٹیم بدلنے والے ہیں؟ حکومتی ایوانوں کو ہلا دینے والی صورتحال سامنے آ گئی ؟؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد میں حکومتی ترجمانوں کیساتھ اہم بیٹھک لگائی ۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے کہا مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔ دونوں کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔دونوں بہترین کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان

نے مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی افواہوں کو دفن کردیا اور کہا کہ مشیرخزانہ کہیں جائیں گے نہ گورنر اسٹیٹ بینک ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شبر زیدی کی جگہ کسی اور بندے کو لیکر آئیں گے ۔ چیئرمین ایف بی آر شدید بیمار ہیں، وہ میری درخواست پر چھ ماہ کیلئے آئے تھے۔۔وزیراعظم نے اشیائے خورونوش کے بحران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا بحران کے ذمہ داران کیخلاف سخت ایکشن لوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بحران میں جہانگیر ترین کا کوئی کردار نہیں، بات چیت میں انہوں نے مشکل وقت میں پارٹی کو منظم اور متحد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔یاد رہے کہ اس حوالے سے معروف صحافی کامران خان کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان کے لئے یہ یقینا بڑا دھچکا ہے۔چئیرمین شبر زیدی وزیراعظم کی معاشی ٹیم کے اہم رکن تھے۔وہ کتنے عرصے تک غیر حاضر رہیں گے،اس بارے میں معلوم نہیں۔ پچھلے چند ہفتوں سے وہ طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے ایف بی آر میں وقت نہیں دے پا رہے۔ یہ مجموعی صورتحال وزیراعظم کے لیے انتہائی مشکل کا باعث بنے گی۔ شبر زیدی کپتان کی معاشی ٹیم کے ایک بہت اہم کھلاڑی تھے۔انہوں نے دو ہفتے کی چھٹیوں کے بعد 21 جنوری کو دوبارہ دفتر سنبھالا تھا مگر ان کی طبعیت نہیں سنبھل پائی اور پھر رخصت پر جانا پڑا۔اس وقت ایف بی آر ایک بڑے کٹھن مرحلہ میں ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ کو پورا کرنا ہے۔اس سال یہ بہت بڑا یعنی 5500 ارب کا ٹارگٹ تھا اور کہیں دور دور تک یہ ٹارگٹ پوتا ہونا نظر نہیں آ رہا۔ اس لحاظ سے آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہے۔آئندہ پیر کو آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آ رہا ہے۔جہاں پاکستان کی دوسری سہ ماہی کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔یہ مذاکرات بہت اہم ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب وزیر خزانہ نے نئے چیئرمین ایف بی آرکے لائے جانے کا اشارہ دے دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close