جرائم

پولیس ملزمان کی سہولت کار بن گئی انصاف کے لیے دربدر

نوشہروفیروز (رانا اشرف) نوشہروفیروز کے قریب در یا خان مری پولیس نے ظلم کی انتہا کر دی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کےرکھ دیا پولیس اہلکار میرے مخالفین کے ساتھ مل کر میرے گھر میں گھس آے گھر کے افراد کو یرغمال بنایا اور پولیس کی سرپرستی میں گھر کا قیمتی سامان اٹھا کر لے گے  کچھ عرصہ سے میرے مخالفین کے سہولت کار بن کر در یا خان مری کے پولیس اہلکار مجھے اور میرے بچوں کو ہراساں کر رہے ہیں اعلی حکام سے فوری طور پر نوٹس لینے کی اپیل در یا خان مری کے رہایشی آرمر فورس پولیس کے اے ایس آئی حافظ جمیل احمد مغل کی پریس کانفرنس، 
تفصیلات کے مطابق در یا خان مری کے رہایشی ارمر فورس پولیس کے جوان اے ایس آئی حافظ جمیل احمد مغل نے اپنے بیٹوں مرزا نعیم احمد خان مغل اور مرزا حسنین مغل کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے میرے بڑے بیٹے نعیم احمد مغل کی شادی محمد اشرف مغل کی بیٹی سے ہوئی شادی کے کچھ ہی عرصے کے بعد نعیم احمد مغل کی بیوی نے اس سے ناجائز مطالبات کرنا شروع کر دئیے اور نہ ماننے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دینے لگی جس کے بعد ان لوگوں نے وومین پولیس اسٹیشن نواب شاہ میں ہمارے خلاف جھوٹی ایف آئی آر داخل کرائی اور مجھے اور میرے دونوں بیٹوں کو گرفتار کرایا اور مطالبہ کیا کہ دریاخان مری کی جو آپ کا گھر ہے اسے فروخت کرکے مجھے نوابشاہ میں الگ سے گھر بنوا کر دو یا پھر وہ جگہ میرے نام یا میرے بھائی کے نام کراؤ اور اس کے علاوہ اس کے دیگر ناجائز مطالبات تھے جو میرے بیٹے نعیم احمد مغل نے نہ مانے اور مسلسل زیادتیوں کےبعد اپنی بیوی عائشہ اشرف کو طلاق دے دی جس کے بعد محمد اشرف مغل اس کی بیٹی اور بیٹا پولیس اہلکاروں کے ساتھ زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے میری دو بیٹیوں میرے بیٹے حسنین مغل اور اس کی بیوی کو یرغمال بنایا اور ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں موجود قیمتی سامان اٹھا کر لے گے جس کی اطلاع میں نے فوری طور پر ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر نوشہروفیروز کو دی اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں گھر میں توڑ پھوڑ کرکے عورتوں پر تشدد اور سامان اٹھاکر لے جانے کی ویڈیو بھی دکھائیں تو انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آپ قانونی کاروائی کریں ہم ہر قانونی مسلہ میں آپ کے ساتھ ہیں جس کے بعد میں نے اپنی درخواست ڈی ایس پی کمپلین نوشہروفیروز اور عدالت میں بھی زبردستی میرے گھر میں داخل ہوکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے میرے گھر کا سامان اٹھا کر لے جانے والوں کے سہولت کار بنے ہوئے دریا خان مری کے پولیس اہلکاروں کے خلاف درخواست دی ہے انہوں نے مزید کہا کہ میں 28 سال سے ضلع نوشہروفیروز پولیس ہیڈ کواٹر  میں اپنا فرض سر انجام دے رہا ہوں در یا خان مری میں گھر بنانے کے لئے اپنی زرعی زمین فروخت کی تھی اور گھر کی جگہ کو مسمار کر دیا تھا اور میرے گھر کے پلاٹ پر بااثر افراد نے قبضہ کرنے کی کوشیش کی تو در یا خان مری پولیس کے چند اہلکار ان کے ساتھ مل کر ہیمں تنگ کرتے رہے اور اب تک ہمارے مخالفین کے سہولت کار بن کر ہمیں پریشان کر رہے ہیں جو کافی عرصہ سے در یا خان مری پولیس اسٹیشن پر تعنیات ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے بنا کسی اتھارٹی لیٹر لیڈی پولیس کے بغیر میرے مخالفین کے ساتھ مل کرچادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میرے گھر میں گھس کر میری بیوی بیٹیویوں کو یرغمال بنا کر گھر کا تمام قیمتی سامان اٹھا کر لے گئے جس کے ہمارے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں انہوں نے کہا کہ میں قانون کا محافظ ہوں مجھ سے ایک عرصے سے ناجائزیاں اور ناانصافیاں ہو رہی ہیں مجھے سے اور میرے بچوں سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے خدارا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائےانہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف آف آرمی اسٹاف ڈی جی آئی ایس پی آر ہائی کورٹ آف سندھ وزیر اعلی سندھ آئی جی سندھ آئی جی آر پی او حیدرآباد سندھ ڈی آئی جی شہیدبنظیرآباد ایس ایس پی نوشہروفیروز سمیت دیگر اعلی حکام کو اپیل کی بنا جواز میرے گھر میں داخل ہوکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس اہلکاروں اور میرے گھر کا سامان اٹھا کر لے جانے والے مجرموں کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close