کالم

بندھی زنجیریں ۔۔۔۔۔۔۔ (رانا عبدالاحد )

دورجدیدکے اپنے نت نئے اندازہیں لیکن انسانی ر ویوں نے اسے اپنانے میں ہی کئی آزمائیش اپنے مقابل کھڑی کردیں۔آگراس کے ثمرقابل زکر ہیں تواس کی قباحتوں کابھی کوئی ثانی نہیں۔سٹاٹسیا2019 ء کے اعدادوشمارکے مطابق کوئی لگ بگ3ارب لوگ سمارٹ فون استمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں ان حضرات کی تعداد 55.4ملین(پی ٹی اے)ہے

جناب مارٹن کوپر کی ایجادموبائل فون اس دورمیں ذندگی کالازمی مستقل جزوبن چکا۔موبائل یاسوشل میڈیاکی افادیت سے انکارتوناممکن ہے اور نہ ہی اس کے فائدے زیادہ یانقصان کی بحث میں الجھناہماراموضوع ہے بلکہ ہماراموضوع اس برقی الہٰ کولے کر جو دیوانگی موافقیت احتیار کی گئی ہے ’اس پراک نظرہے۔ سوشل میڈیانے معاشرہ کی سمت،زوایہ اوربنیادکوازسرنوڈوان لوڈنگ پرلگادیا۔سوشل میڈیاکاہرسوبول بالاہے،خوشی ہو،غمی ہو،مذہب کے رنگ ہوں،تازہ تازہ عشق مجازی ہو،جمہوریت پرمرمٹنے والے ہوں یاآمریت کے داعی ہوں،می ٹوکاتڑکاہویاغیرت کے نام پرحرمت داری،حاجی سے الحاج کا سفرہو، برینڈذ کی جنونیت ہو، خواجہ سراؤں پرظلم ڈھانے کی بھرپورمذمت۔۔۔غرض کے کچھ بھی اپنے یاکسی کے متعلق ہو۔۔۔ود،اٹ،ایموجزکی واسعت سے اپنے جذبات کی ترجمانی،سٹیٹس اپ ڈیٹ ایک نئی معمولات زندگی کی شکل ہے۔لیکن پریشان کن بات ہماراسوشل میڈیاکواعصاب پرانتہاکی حدتک سوار کرناہے۔سوشل میڈیاکی کی لت کاغالباًہرکوئی شکارہے۔جس کے زریعے سے ہم اپنی زات کاایساعکس پیش کرتے ہیں جودرحقیت خودہمی سے ناآشناہو۔نیویارک ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ہم اوسطً روزانہ150باراپناموبائل فون دیکھتے ہیں اس میں بڑے،چھوٹے دونوں شامل ہیں۔اس بات سے باخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم درحقیت ’نوموفوبیا‘کاشکارہیں اورستم ظرفی کی بات یہ کہ ہم مجموعی طورپراس سے انکاری رہے۔ہمارانفسیاتی طورپرغیرمتوازن ہونا اب کوئی رازکی بات نہیں۔ اوراب لوگوں کوپرکھنے کامعیار ’کتنے لایئکزملے‘،’کتناشیئرہوا‘’،کمنٹس میں کیسے پھول نچھاورکیے گئے‘وغیرہ پرمنحصرہے۔اوربے شک وہ موصوف اندرسے بلاکے کھوکھلے کیوں نہ ہوں،لیکن ہمیں توسوشل میڈیاپرتیس مارخان بنناہے۔ ہم زندگی کے بارے جو نظریہ رکھتے ہیں، ’اسی کی ترویج کرتے،’اسی کوپسندفرماتے،ایساہی سنناچاہتے،بس ’اسی پرلب کشائی کرتے۔۔۔اس خودساختہ قائم کردہ حصارکے برعکس آگرکوئی شے سامنے آجائے توایسے آپے سے باہرہوتے کہ پھرکوئی حد،حدنہ رہتی اورنفرت انگیزی میں ریکارڈرقم کیے جاتے اس پرسگمنڈ فرائیڈکی خوبصورت بات
”Men are more moral than they think and far more immoral than they can imagine “ اس خودساختہ قائم کردہ حصارکادائرہ

سیاست،مذہب،قومیت،لسانیت تک وسیع ہیں۔مرشدوں جن میں کارل مارکس،پلیٹو،ارسطو،تھامس ہوبز،جان رولز،برٹرینڈرسل۔۔نے انسانی فطرت پرکئی فلاسفے پیش کیے لیکن گستاخی معاف،انسانی فطرت ایک سمندرہے جیسے بالکل بھی جرنلیذڈنہیں کیاجاسکتابرکیف چند’اوصاف توبیان کیے ہی جاسکتے ہیں۔سوشل میڈیااورانسانی فطرت پربہت مقالے لکھے گئے اس پر تحقیات کے انبارنظرآتے ہیں لیکن کوئی بھی آخری فصیلہ دینے سے قاصرہے جس کی بنیادی وجہ غیرمستقل انسانی فطرت کاگورکھ دھنداہے۔
یہ کوئی تنگ نظری نہیں کہ آگرکوئی سوشل میڈیاکواعتدال سے برتنے پرتوجہ دلائے۔اس دورمیں سوشل میڈیاسے کنارہ کشی کوئی حل نہیں۔اس نے کوئی مانے یانہ مانے لوگوں کی زندگیؤں میں انقلاب برپاکیاہے۔لیکن ضرورت اس آمرکی ہے ہم سب اس بات کاادارک کریں کہ اس سوشل میڈیاکوزندگی نہ بنالیں بلکہ زندگی میں ایک جزوکے طورپرلیں۔لیکن برحال فصیلہ کاکل اختیارآپ ہی کوحاصل ہے۔ سوشل میڈیاکوہمارے رویہ نے اسے جدیددورکی استعماریت بناڈالا۔دراصل فبنگ،نوموفوبیازنجیریں ہی جن کوتوڑناہی صحت مندمعاشرے کی ضمانت ہے۔آگرہم زہینی طورپر خوشحال نہیں ہیں تویہ کوئی معنی نہیں رکھتاکہ آپ’ود‘کتنوں کے ساتھ ہیں پرجب آپ سوشل میڈیاکوآپنے اعصاب پراتناسوارکرلیں کہ زہنی بیما ریاں آپ کواپنامسکن بنالیں تویقین جانیے آپ کو ’ودنوون‘پر آکتفاکرکے ہی اس سے مقابلہ کرناپڑے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close