کالم

ادبی مثلثیں ناپید ھوگئیں (تحریر : فرید شیخ )

افسر بہزاد ظفر خان نیازی اور عبیدہ اعظم کی مثلث ہوا کرتی تھی ۔جناح روڈ پر محشر رسول نگری ، وحشی جنجوعہ اور سبز سویرا کے شریف صاحب اکثر خوش گپیاں کرتے نظر آتے ۔پروفیسر معین الحق ، پروفیسر زیبائش خان اور اللہ دادنیازی کی ادبی مثلث مشہور تھیپروفیسر ضیاءالرحمٰن ، پروفیسر صابر اور شکیل صاحب کی ادبی مثلث بھی بڑی زبردست مثلث تھی ۔پشتو اکیڈمی کے درویش درانی ، سیال کاکڑ اور صاحبزادہ حمید اللہ کی ادبی مثلث کا بھی بڑا شہرہ ہوا کرتا تھا ۔براہوی اکیڈمی میں پروفیسر خدائیدادگل ، اعظم بنگلزئی، پیر محمد زبیرانی اور بلوچی اکیڈمی کے واحد بندیگ ، اثیر عبدالقادر شاہوانی کی ادبی مثلث بھی زیادہ متحرک اقر فعال تھی ۔ایک ادبی مثلث جنگ کے دفتر میں افضل مراد بیرم غوری ، محسن شکیل اور قومی ایوانِ ثقافت میں عالی سیّدی ، لعل حسین ناصر اور ادریس کاوش کی مثلث بھی لا جواب تھی ریلوے کی ادبی مثلث میں نسیم احمد نسیم ، شبیر تبسم اور ریاض الدین اکثر ساتھ دیکھے جاتے تھے ۔لیکن افسوس وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادبی مثلثیں ناپید ھوگئیں اور ادبی رونقیں بھی ماند پڑ گئیں ۔ادب برائے زندگی کا فلسفہ اور ادب برائے ادب کے نظریہ کا پیمانہ بھی بدل گیا ۔کس شہر میں خواتین کے چولھے ٹھنڈے پڑ جائیں۔جہان بچے سردی سے ٹھہٹھرتے ہوئے رات بیتائیں ، جہان پینے کا پانی نہ ہو اور جہان بجلی آنکھ مچولی کرتی ہو ۔وہاں ادب اور علم کی روشنی کا کیاکامادب زندگی سے عبارت ھے اور زندگی کیلیے روزمرہ کی سہولیات کا ہونا اتناہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کیلیے زندگی ضروری ھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close