کالم

پیڈوفیلیا کے مضمرات (ملک شفقت اللہ)

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے۔کبھی زینب اور کبھی شازیہ کی صورت میں آئے روز کوئی بیٹی حیوانیت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ شریف طبع خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز نو سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ وباء صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایڈز کے بعد یہ دوسری بڑی بیماری ہے جس میں دنیا کے قریب تیس سے چالیس فیصد لوگ مبتلا ہو چکے ہیں۔امریکہ میں ایک سروے کیا گیا جس میں حصہ لینے والے لگ بھگ پینسٹھ فیصد مرد و خواتین نے بتایا کہ وہ بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں۔ بھارت میں بھی ایک ایسے ہی سروے میں حصہ لینے والے مرد و خواتین نے اس با ت کو تسلیم کیا ہے کہ وہ کمسنی میں جنسی ہراسانی و زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں۔اسی طرح دنیابھر میں یہ مرض عام ہے۔ اس بیماری کا نام پیڈوفیلیا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جتنے بھی ایسے جرائم ہوں وہ اسی مرض کا شکار لوگ ہی کریں، لیکن ایسے واقعات میں پیڈو فائل ہی ملوث ہوتے ہیں جو زیادتی کے بعد قتل تک سے گریز نہیں کرتے۔ پیرا سائٹس سے پھیلنے والی بیماریوں سے لڑنے اور ان کا مستقل حل نکالنے کیلئے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے معروف ماہر سائنسی تعلیم ڈاکٹر صغیر احمد صغیر جو اس وقت سائنس کالج لاہور میں پروفیسر بھی ہیں اپنے ایک تحقیقی مضمون میں اس پیڈو فیلیا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ” بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا ارتکاب در اصل ایک بیماری ہے اور اس جرم کا مرتکب ہونے والا شخص پیڈو فائل کہلاتا ہے۔ پیڈو فیلیا ایک ذہنی مرض ہے، اس کے ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن سب سے اہم جو گردانی جاتی ہیں وہ جینیاتی اور انفیکشیئس ہیں۔جینیاتی پیڈو فیلیا نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جبکہ جدید تحقیق کے مطابق یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹاکسو پلازما نامی ایک جرثومے کی وجہ سے بھی یہ علت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ٹاکسو پلازما کی وجہ سے جانوروں اور انسانوں میں آدم خوری کا میلان پیدا ہوتا ہے۔یہ پیرا سائٹ انسان کو جس طرف لگا دیں انسان اسی طرف لگ جاتا ہے۔اس کی علامات تو یہ ہیں کہ انسان کا دماغ سن ہوجاتا ہے، اس علامت کے ظاہر ہونے کی وجہ سے اس کا علاج ممکن ہوتا ہے لیکن اگر دماغ سن نہ ہو تو اس کی علامات کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علاج ممکن نہیں ہوپاتا“۔ اس میں مبتلا انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ اس شخص کا ڈوپا مین لیول بڑھ جاتا ہے جس کے بعد وہ جو سوچتا ہے جب تک اسے انجام تک نہ پہنچائے چین نہیں پاتا، اور افسوس کہ کچھ معاشرتی برائی کی وجہ سے ایسا شخص جنسی سکون کو پانے کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے۔ چونکہ وہ نفسیاتی مریض ہوتا ہے اور جسمانی طور پر کمزور ہوجاتا ہے تو اپنے لئے کوئی آسان ٹارگٹ چنتا ہے، جو کہ عام طور پر کم عمر بچے ہوتے ہیں۔یہ دماغی مرض شائزو فر ینیا جو مختلف نفسیاتی بیماریوں کا مجموعہ ہے،میں سے ایک ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر پیڈوفیلیا میں مبتلا شخص کی عمر پینتیس برس ہے تو اس کا نشانہ پانچ سال سے چودہ سال کے درمیان کوئی بچہ یا بچی ہوگی۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایسے واقعات کے پیچھے کافی حد تک ہمارے میڈیا، ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور عریانی کا بہت بڑا کردار ہے۔جنسی میلان ہر انسان کی ایک فطری ضرورت ہے، کیونکہ قدرت نے ہی انسان کی فطرت میں یہ عمل رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی زیادتیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے لوگوں کو اس فطرت سے محروم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس طرح زندگی ممکن رہے گی۔ ایک شخص جو صبح اٹھتا ہے،اپنے گردو نواح کے بازاروں میں عورتوں کو ایسے لباس میں دیکھتا ہے جو جسم کے خدو خال کو واضح دکھا ئے، پھر ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں ایسا میڈیا دیکھنے کو ملتا ہے جو ان جذبات کو اور بھی زیادہ بھڑکا دیتا ہے۔ میں نے کچھ دن قبل ایک قومی اخبار میں اشتہار دیکھا جس میں نامکمل لباس میں خوبصورت سی لڑکی کی تصویر لگی ہوئی تھی اور ساتھ لکھا تھا برائے فروخت، لیکن ساتھ ہی بالکل چھوٹی سی ایک کار کی تصویر تھی۔ اب یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان دونوں میں سے کون سی چیز کو فروخت کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ڈارک ویب سائٹس بھی اس کا ایک پہلو ہے لیکن میری رائے میں پیڈو فیلیا سب سے خطرناک پیرا سائٹک حالت ہے۔یہ تمام عناصر مل کر اس شخص کو ذہنی دباؤ کا شکار بناتی ہیں اور پھر دماغ میں ٹاکسو پلازم جیسا مہلک جرثومہ جنم لیتا ہے۔ یہ بات یہاں کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ میں ان لوگوں کے حق میں کوئی جواز پیش نہیں کر رہابلکہ یہ کہ میں معاشرے کے اس بھیانک چہرے کی متوجہ کروانے کی کوشش کر رہا ہوں جسے ہم نے لبرل ازم کے لبادے کے ساتھ ذہنوں اور جسموں پر اوڑھ لیا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص جس سے محبت کرتا ہو گا وہ قیامت کے روز اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ قوم لوط بھی ایسی بیماری میں مبتلا تھی اور ان سے پہلے حضرت شیعث ؑ کی قوم بھی ایسی ہی علت کا شکار ہوئی تھی۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے عبرتناک عذاب بھیجا تھا۔ یہ خاتم النبین محمد الرسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ ہم آج دنیا میں اللہ کے عذاب سے بچ رہے ہیں لیکن ہم یہ بھی خیال کر لیں کہ آخرت میں وہ لوط ؑ کی نافرمان قوم کی صف میں کھڑے ہونگے۔ اور اس میں ان بادشاہوں کا بھی اتنا ہی حساب ہو گا جتنا کہ ان کی اس رعایا کا جو ایسے گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ میری رائے میں دنیا بھر میں اس گناہ و معاشرتی برائی سے بچنے کے حل یہی ہیں کہ نکاح آسان بنایا جائے، جہیز کے غیر قانونی ہونے والے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، عریانی اور فحاشی پھیلاتے میڈیا پر مکمل پابندی عائد کی جائے، ایسے جرائم میں ملوث افراد کی سزاؤں پر جلد سے جلد عملد ر آمد کروایا جائے اور انہیں معاشرے کیلئے عبرت بنایا جائے۔ محرم اور نا محرم کا جو فرق مثبت ذہنیت کی آڑ میں ختم کیا گیا ہے اسے بحال کیا جائے۔ کو ایجوکیشن سسٹم کا خاتمہ بھی اس کیلئے اہم ہے۔اس طرح آگاہی پروگراموں سے بچوں کو جو جنسی ہراسانی کی تعلیم دی جا رہی ہے یہ معاشرے میں اور بھی زیادہ برائی پھیلنے کا مؤجب بن رہی ہے، کیونکہ آگاہی کا نقصان بڑا ہوتا ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ پیڈو فیلیا کے بارے ماہرین نفسیات کی طرف سے آگاہی پھیلائی جائے اور لوگوں کو اس معاملے میں خود احتسابی کی طرف راغب کیا جائے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close