ایڈیٹر کی ڈاک

عوام ’’کہتے ہیں، سمجھتے ہیں!‘‘

مکرمی! ان دنوں اردو اخبارات میں اور سیاستدانوں کی زبان پر ’’عوام سمجھتی ہے‘‘ ’’عوام اُٹھ کھڑی ہوئی‘‘ جیسے جملے بکثرت بولے، لکھے اور سنائے جا رہے ہیں اور کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا کہ ’’عوام‘‘ تو اسم مذکر جمع ہے۔ لیکن پچھلی دو تین دہائیوں میں اسے اسم مونث واحد بنا دیا گیا ہے، حالانکہ اُردو صحافت کے ابتدائی ڈیڑھ دو سو سال میں لفظ ’’عوام‘‘ (جو ’’عامہ ‘‘ کی جمع) مونث واحد ہی لکھا جاتا رہا۔ اردو کی مستند لغت ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ میں ’’عوام ‘‘ کو اسم مذکر جمع لکھا گیا ہے اور معنی دئیے ہیں: ’’عام لوگ، تمام آدمی، رعایا‘‘ اور ’’عوام الناس‘‘ کے بھی یہی معنی ہیں۔ جہاں تک ہمیں یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو تقریروں میں ’’عوام‘‘ کو انگریزی لفظ ’’پبلک‘‘ کی پیروی میں واحد مونث بولتی تھیں۔ میڈیا نے ان کی تقریروں کو من و عن لکھنا اور سنانا شروع کر دیا۔ یوں دیکھتے دیکھتے لفظ ’’عوام‘‘ کو مونث بنا دیا گیا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے الگ الگ درجے (مرد اور عورت) بنائے ہیں۔ قرآن مجید میں یاایھاالناس ’’اے لوگو! ‘‘ سے خطاب کیا ہے اور اس مذکر صیغے میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ الناس (عوام الناس یا عوام) کو مذکر کہہ دینے سے عورت کے درجے یا حقوق کی ہرگز نفی نہیں ہوتی۔ (محسن فارانی، لاہور )

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close