Uncategorized

"سموگ: وجوہات، اثرات اور بچاؤ”سیمینار

شیخوپورہ(امانت علی بھٹی)نیشنل ہائی ویز موٹروے پولیس اور WWF پاکستان کے اشتراک سے ایک انتہائی اہم موضوع "سموگ: وجوہات، اثرات اور بچاؤ” کے عنوان سے موٹروے پولیس ٹریننگ کالج شیخوپورہ میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار کا مقصد پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اپنی زمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ٹرانسپورٹ سیکٹر، انڈسٹری، فصلوں کی باقیات کو لگائی جانے والی آگ اور پاور سیکٹر کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی اور اس سے جنم لینے والی سموگ کی حوصلہ شکنی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت کا احساس پیدا کرنا تھا۔سیمینار کے مقررین نے سموگ سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔سیمینار کے شرکاء میں کمانڈنٹ موٹروے پولیس ٹریننگ کالج ڈی آئی جی محبوب اسلم، ڈپٹی کمانڈنٹ ایس پی غلام قادر سندھو، صوبائی وزیر،وزیر اعلی انسپیکشن ٹیم محمد اجمل چیمہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب مس سمیرا صمد صاحبہ، سینیر ڈائریکٹرWWF پاکستان مسعود ارشد، سیکریٹری پنجاب ٹرانسپورٹ اتھار ٹی چوہدری محمد اقبال، صحافی حضرات، طلباء، کسانوں کے نمائندے، ٹرانسپورٹرز، موٹروے پولیس کے افسران اور کشیر تعداد میں دیگر معززین موجود تھے، سیمینار کے مقررین نے سموگ بننے کی وجوہات، آ لودگی پھیلانے والے عوامل، اس کے اثرات اور اس کو روکنے کے لئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ موٹروے پولیس ٹریننگ کالج ڈی آئی جی محبوب اسلم نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے سموگ ہائی ویز اور موٹرویز پر روڈ یوزرز کی سیفٹی کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ حد نظر میں کمی کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں بہت سی قیمتی جانوں اور لاکھوں کی مالیت کے اثاثوں کا ضیاع ہو اہے۔موٹروے پولیس نے عوام میں روڈ سیفٹی کے شعور کو اجاگر کرنا ہمیشہ اپنا فرض اولین سمجھا ہے موسمیاتی تبدیلیوں کیساتھ روڈ سیفٹی سے منسلک خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔چنانچہ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے دوران محفوظ ڈرائیونگ کے اصولوں پر عمل پیر ا ہونے کے شعور کو اْجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے، صوبائی وزیروزیر اعلی انسپکشن ٹیم محمد اجمل چیمہ نے اس امر پر زور دیا کہ سموگ کے مسلہ سے نمٹنے کے لئے تمام اداروں کو مشترکہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ کسانوں اور دیگر متعلقین میں سموگ بارے آگاہی پیدا کی جائے، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب مس سمیرا صمد نے اس موقع پر کہاکہ یہ بہت ضروری ہو چْکا ہے کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے تمام سیکٹرز بالخصوص ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہونے والے PM2.5 ذرات کے اخراج میں نمایاں کمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سموگ پیدا کرنے والے عوامل کو کنٹرول کرنے کے لئے بہت سنجیدہ ہے سینئر ڈائریکٹرWWF پاکستان مسعود ارشد نے بتایا کہ فضاء کی کوالٹی کی نگرانی کرنے والے ادارے ائیر وزول (Air Visual) کے مطابق لاہور کا شمار دنیا کے دس آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، فصلوں اور کوڑے کو لگائی جانے والی آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی سموگ بننے کی بڑی وجہ ہیں اور یہ فضائی آلودگی نہ صرف انسانی صحت اور معیار زندگی کو بْری طرح متاثر کر رہی ہے بلکہ ملکی معیشت اورماحول پر بھی انتہائی بْرے اثرات مرتب کر رہی ہے، ڈی جی ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈاکٹر انجم علی نے فصلوں کے باقیات کو لگائی جانے والی آگ سے باالوسطہ یا بلاواسطہ نقصانات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ ان کا محکمہ ان باقیات کی بہتر طریقے سے ڈسپوزل کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تقریب کے اختتام پر کمانڈنٹ نیشنل ہائی ویز موٹروے پولیس ٹریننگ کالج ڈی آئی جی کی طرف سے مقررین اور دیگر معززین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close