Uncategorized

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے معاہدہ توڑ چکا اب حکومت ہم کرینگے اور اسے ترقی دینگے، ملک کو آگے لے کر جائیں گے، آپ پاکستان کے حکمران نہیں، اب تمہاری حکومت نہیں ہے، مودی خوش ہےعمرا ن جیسا پاکستان کا وزیراعظم ہے،

مودی عمران کی وجہ سے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے ، آپ نے سفارتی پروٹوکول سے طالبان کا استقبال کیا، حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتے،ڈی چوک تک جانا بھی تجاویز کا حصہ ہے، فیصلہ کرینگے اس میدان سے اگلے میدان میں منتقل ہوں،حکومت غیر آئینی جعلی اور خلائی ہے، حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی، ناجائز حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔آزادی مارچ کے شرکاء سے ہفتے کو خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو کہا کہ اپنی آئینی حیثیت ٹھیک کر لو، استعفیٰ دیدو، رہبر کمیٹی کے اجلاس میں آج کے اجلاس کے عوام کے مطالبے کے ساتھ متفق کیا ہے حکمران غیر آئینی ہے، جعلی ہے، خلائی ہے، حکومت کہتی ہے کہ مذاکرات کے راستے کھلے ہیں تاہم دوسری جانب کنٹینر لگا کر تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتیں استعفے کے مطالبے پر متفق ہیں۔ ہم نے فیصلے اتوار کو کرنے ہیں۔ اب ہمارے ہاتھ میں رٹ ہے ہم ملک چلائیں گے، ڈی چوک بھی جاسکتے ہیں۔جے یو آئی (ف) کے امیر کا کہنا تھا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ہم سے بات کریں تو دوسری طرف شہر میں ہر طرف کنٹینر لگے ہوئے ہیں، سارے راستے تو بند کر دیئے، کس راستے سے مذاکرات سے بات کرو گے۔ ہم حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتے۔ ہم فیصلہ کریں گے اس میدان سے اگلے میدان میں منتقل ہوں۔ آنے والوں دنوں میں ہم نے مزید موثر فیصلے کرنے ہیں۔ تحریک جدو جہد مسلسل کا نام ہے۔ 126 دن دھرنا کوئی ہمارے لئے آئیدیل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ

ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا، غریب انسان مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے، جب تک موجودہ حکمران ملک میں ہیں ملک پیچھے جائے گا، موجودہ حکمران ملک کے لیے رسک بن گئے ہیں۔ ستر سال کے قرضے ایک طرف انکے ایک سال کے قرضے اس پر بھاری ہیں۔ ناجائز حکمرانوں کا تختہ الٹ دیں گے، جو بھی حکم آپ کو دیا جائے گا اس پر تمام لبیک کہیں گے۔ اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا، ہم جانتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے معاہدے کو توڑ دیا گیا، یہ ہم ہیں جو اس معاہدے کو پال رہے ہیں۔فضل الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ ڈی چوک جانا ایک تجویز ہے، ہمارے مارچ میں خواتین کو عزت دی گئی۔ پوری دنیا کا میڈیا ہمارا آزادی مارچ دکھانے پر مجبور ہے۔ ہم عزت والے لوگ ہیں عورتوں کو بالخصوص عزت دینا جانتے ہیں۔ پورے پاکستان کے تمام شہروں میں شاندار استقبال کیا گیا، ہمارے قافلوں کی وجہ سے نہ کوئی مسافر متاثر ہوا نہ کوئی مریض، اپوزیشن میں کوئی تقسیم نہیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بہت خوش ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم عمران خان ہے، مودی عمران خان کی وجہ سے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ناکام خارجہ پالیسی سے کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ ہو گیا ہے، خارجہ پالیسی میں بھی حکومت ناکام ہو چکی ہے، چین آپ سے مایوس ہے، بھارت آپ کا دشمن ہے، ایران، افغانستان سمیت دیگر ممالک پاکستان سے ناراض ہیں۔ فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جب تک اس حکومت سے جان نہیں چھوٹے گی

ہم میدان میں رہیں گے، ہمارے ساتھ سٹیج پر ڈاکٹرز،انجینئرز سمیت تمام طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ ہم سب ایک ہیں تمام سیاسی پارٹیاں متحد ایک ہیں۔ ہمارے قافلے ابھی آ رہے ہیں اتنی جلدی سے اٹھنے والا نہیں۔امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ اپوزیشن تقسیم ہے، ہم تمام اپوزیشن جماعتیں آپس میں رابطے میں ہیں،بھارت کا میڈیا نہیں پوری دنیا کا میڈیا ہمیں چلا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم ہو تو وزیراعظم والی زبان استعمال کرو، آپ نے سفارتی پروٹو کول کیساتھ طالبان کا استقبال کیا، امریکا نے سفارتی پروٹوکول کیساتھ طالبان سے بات کی۔آزادی مارچ میں طالبان کی موجودگی سے متعلق مولانا فضل الرحمٰٰن نے کہا کہ یہاں پر کسی نے طالبان کا جھنڈا لہرایا تو بڑی بات ہو گئی، یہ بھی ہمارے جلسے کے خلاف سازش ہے، انتظامیہ فساد کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہم ایسا کوئی موقع نہیں دیں گے۔ قبل ازیں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں ،ملک کے تمام بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن اور جیل بھرو تحریک کے تین آپشن دیتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ رہبر کمیٹی کریگی ،تمام اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ کا حصہ ہیں،ہمارا قومی سطح کا مطالبہ ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ ہمارا واسطہ ایک نااہل حکومت سے پڑا ہے،ہم اپوزیشن جماعتیں سیاسی ہیں، ہم سیاسی انداز میں عمران سے لڑنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے بیان نہیں آنا چاہیے تھا، آپ کو سرحد پر توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ کو قوم کے فیصلے کو ماننا اور جھکنا پڑے گا۔ ادھراسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام ف کے دھرنے کا دوسرا روز پُر امن رہا، آزادی مارچ کے شرکا نے پشاور چوک پر ڈیرے ڈال لیے، اسلام آباد کی بیشتر سٹرکیں بند جبکہ ریڈ زون مکمل سیل رہا، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے دوپہر 2 بجے پنڈال میں ہی اجلاس بلایا۔ذرائع کے مطابق دھرنے میں شریک تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور اے این پی نے استعفوں، لاک ڈاؤن اور دھرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تاہم رہبر کمیٹی میں مزید غور ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close